Category: اظہر حمزہ علی کے قلم سے

کچھ یادیں ماضی کے جھروکوں سے

مجھے قدیم اور تاریخی چیزیں ہوں یا عمارتیں بہت لگائو ہے
جب یہ خط میرے ہاتھ میں آیا تو کافی دیر تک میں دیکھتا ہی رہا
اور مجھے خو نہیں یاد کہ میں نے کتنی بار پڑھا
آپ اس خط میں اردو کے الفاظ ملاحظہ فرمائیں کہ کتنی شائستگی کے ساتھ اپنا مدعا بیان کیا گیا ہے۔
اردو واقعی ایک ایسی زبان ہے کہ جس سے چاشنی ٹپکتی ہے بشرط یہ کہ اردو بولی جائے۔
فی زمانہ ہمارے یہاں جو اردو رائج ہے بہت افسوس کی بات ہے کہ اس میں مغرب اور پڑوسی ملک کے بے تحاشہ الفاظ کی ملاوٹ ہو چکی ہے۔
اور ہم ذہنی طور پر اتنے غلام ہو چکے ہیں کہ ہمارے حکومتی حکم نامے ہوں یا عدالتی فیصلے سب انگریزی کی نظر ہو چکے ہیں۔
اور اس پر ستم یہ کہ ہم نے انگریزی بولنے کو شخصیت پرکھنے کا معیار بنا لیا ہے جو جتنی انگریزی بولے گا اس کو اتنی ہی عزت دی جائے گی افسوس صد افسوس۔۔۔۔
میرا چائنہ جانا ہوا تو آپ یقین نہیں کریں گے کہ میں نے ایک کیفے میں چائے لی اور میں جتنی دیر میں اس کو یہ سمجھا سکا کہ مجھے چینی چاہیئے جب تک چائے ٹھنڈی ہو چکی تھی اس میں بات یہ سمجھنے والی ہے کہ وہ قوم اپنی زبان سے اتنی وفادار ہے کہ وہ کچھ اور سمجھنے کو تیار ہی نہیں بولنا تو دور کی بات ہے۔
خدارا اپنی زبان سے محبت کرو اور اس کو رائج کرو ورنہ ہمارا حال بھی پڑوسی ملک کی طرح ہو جائے گا جن کی اب اپنی زبان تقریبا موت کے دہانے پر کھڑی ہے جو کہ اب اردو، ہندی اور انگریزی کا مرکب بن چکی ہے۔
سلیقے سے ہواؤں میں جو خوشبو گھول سکتے ہیں
ابھی کچھ لوگ باقی ہیں جو اردو بول سکتے ہیں
جو لوگ گزر گئے، جو وقت گزر گیا واپس تو نہیں آسکتا لیکن ان کی چھوڑی ہوئی یادیں دیکھ کر ان کی چیزوں کے ذریعے سے میں بھی تخیلاتی طور پر اس ہی زمانے میں پہنچ جاتا ہوں۔
اظہر حمزہ علی

تعلیم قرآن اور مسجد النبوی ﷺ

تعلیم قرآن اور مسجد النبوی ﷺ کا رشتہ نیا نہیں بلکہ عہد نبوت سے چلا آرہا ہے یہ بات اس دور کی ہے جب ہمارے کریم آقا ﷺ ہجرت کے بعد مدینہ منورہ تشریف لائے اور مسجد النبوی ﷺ کی بنیاد رکھی تو اس وقت انصار اور مہاجرین صحابہ کرام رضوان اللہ تعالٰی اجمعین چھوٹی چھوٹی ٹولیوں کی صورت میں قرآن کریم اور شریعت کی تعلیم حاصل کیا کرتے تھے۔
ہمارے کریم آقا ﷺ یہ دیکھ کر اطمینان کا اظہار بھی کرتے اور تعلیم بھی فرمایا کرتے تھے پھر بعد میں آپ ﷺ نے مسجد النبوی سے ملحق ایک چبوترا بنانے کا حکم دیا جہاں مہاجرین صحابہ رہتے بھی تھے اور تعلیم بھی حاصل کیا کرتے تھے۔
یہاں اس چبوترے پر تعلیم حاصل کرنے والے صحابہ کو اصحاب صفہ بھی کہا جاتا ہے جنھوں نے اپنی زندگی دین اسلام اور درس و تدریس کے لیئے وقف کردی تھی۔
آج یہ چبوترا مسجد النبوی ﷺ کی توسیع کے بعد مسجد میں ہی شامل ہوگیا ہے۔
آج کے دور میں بھی مسجد النبوی ﷺ میں درس و تدریس کا عمل جاری و ساری ہے اور جگہ جگہ بچے اور بڑے قرآن کریم کی تدریس میں مشغول نظر آتے ہیں اور ہم جب مسجد النبوی ﷺ میں یہ سب دیکھتے ہیں تو بہت خوشی بھی ہوتی ہے اور تصور میں عہد نبوت ﷺ بھی دیکھنے کی کوشش کررہے ہوتے ہیں کہ صحابہ کرام رضوان اللہ تعالٰی اجمعین بھی اسی طرح ٹولیوں کی صورت میں قرآن کریم کی تعلیم حاصل کرتے ہوں گے۔
ہمارے نبی کریم آقا ﷺ نے اس عمل کو ہمیشہ بہت پسند فرمایا ہے۔
خَيْرُكُمْ مَنْ تَعَلَّمَ الْقُرْآنَ وَعَلَّمَهُ:
ترجمہ: تم میں سب سے بہتر وہ ہے جو قرآن مجید پڑھے اور دوسروں کو پڑھائے۔
حدیث نمبر (5027) صحيح البخاری
اللہ کریم ہمیں بھی قرآن کریم کا طالب علم بنا دے اور اس کو حقیقی معنوں میں پڑھنے، سمجھنے اور عمل کرنے کی توفیق عطا فرما دے آمین
تحریر: اظھر حمزہ علی