نام: طیب موسیٰ

حالیہ ومستقل سکونت: منڈی بہاوالدین(پنجاب)پاکستان

تعلیم: بیچلرآف کامرس پیشہ: صحافت(ایڈیٹرروزنامہ علاقہ منڈی بہاوالدین) کمپوزنگ اینڈ ڈائزینگ .فاران پبلی کیشنزاُردو بازار لاہور)

 

 

 

 

اُردو شاعری سے میرے لگاو کی وجہ کلاسیکل موسیقی ہے۔ بیگم اختر،غلام علی،نصرت فتح علی خان، مہدی حسن، عابدہ پروین، پنکج اُدھاس،انوپ جلوٹا، متالی سنگھ، چترا اور سب سے بڑ ھ کر جگجیت سنگھ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔!

فیس بک جوائن کرنے کے بعد شاعری کے ڈائزین سے متاثر ہوکرٹوٹی پھوٹی ڈائزینگ شروع کی جو آج تک جاری ہے۔۔۔۔!

فیس بک پراُردو شاعری کی ڈائزینگ کا باقاعدہ آغازمیں نے ا پنے پیج ” دُ کھ بولتے ہیں “ سے کیا جسے کانام بعد میں تبدیل کرکے موسیٰ آرٹ (Musa Art)رکھ دیاگیا۔

میرے نزدیک کی ڈائزینگ کیلئے سب سے پہلے آپ کو شاعری کو محسوس کرنا ہوتا ہے ،اگر آپ ایسا نہیں کررہے تو آپ اپنے کام کیساتھ مخلص نہیں ۔شاعری کومحسوس کرنے کے بعد آپ کے تخلیل میں جو نقش بنتے ہیں اس کو گرافکس کے انداز میں پیش کیاجاناچا ہیے۔ میرے نزدیک ڈائزئین ایسا ہونا چاہیے کہ کلام کی عکاسی کرتا ہوں ۔ یعنی کلام کو تصویری شکل دیدی جائے۔ دکھ، خوشی، محبت کے جذبات کو ہم صرف کسی ایک لڑکا یا لڑکی کی تصویرسے ظاہر نہیں کرسکتے ۔ ڈائزین کے بیک گراونڈ کو کلام کی عکاس ہونا چاہیے۔

اس قدر گوندھنا پڑتی ہے لہو سے مٹی

ہاتھ گھل جاتے ہیں ،پھر کوزہ گری آتی ہے